16 دسمبر ایک سیاہ دن

عاصم اقبال خٹک

16 دسمبر کو ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن کیوں کہا جاتا ہے؟ 16 دسمبرکو کیا ایسے واقعات رونما ہوئے اس پر ایک مختصر تحریر لکھتا ہوں۔
اس قوم نے آج تک ترقی نہیں کی جو اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہے اور وہ قوم جو اپنی تاریخ کامطالعہ کر غلطیوں کی اصلاح نہیں کرتی اور ان ہی غلطیوں کو دہراتی ہیں۔
16 دسمبر 1971 وہ دن تھا جب یہ ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ تفصیل میں جانے کے بجائے صرف اتناکہوں گا کہ ایک بہادر جنرل نیازی نے دشمن کے آگے سررنڈر کر دیا۔ ان جنرل صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت عیاش قسم کے انسان تھے مشرقی پاکستان میں ان کے ظلم سے باخوبی سب واقف ہیں۔ 16 دسمبر کا دن بھولا نہیں جاسکتا کیوں کہ اس دن دشمن کے سامنے گھوٹنے ٹیک دیے گئے تھے یہ پوری قوم کے لیے شرم ناک تھا۔ یہ صرف اسٹیبلیشمنٹ کی غلطی نہیں تھی بلکہ مغربی پاکستان کی عوام کا رویہ بھی تعریف کے قابل نہ تھا۔ بہرحال ہم اپنے 93 ہزار فوجی اور آدھا ملک گوا کر بھی اس پر ملال زدہ نہ ہوئے۔
16 دسمبر 2014کو بھی بھول جانا ممکن نہیں کیونکہ اس دن ہمارے ملک پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ دشمن عناصر نے آرمی پبپلک سکول پر حملہ کیا اس حملے کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بچوں پر حملہ کر کے ظلم کا وہ پہاڑ توڑا گیا کہ ہر آنکھ اشک بار ہوگئی ان بچوں کے گھر قیامت کا سماں تھا۔ اس حملے کے بعد غصے کی وہ لہر تھی کہ جس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ لیکن 16 دسمبر 1971 کی طرح کچھ نہ ہوا۔ چند دن کے سوگ اور حکمرانوں کے تہزیتی بیانات کے علاوہ کچھ نہ ہوا۔ اس میں افسوس کا مقام آرمی کے لیے بھی تھا کیوں کے دونوں دفعہ آرمی ناکام ہوئی تھی۔
کہنے کی بات یہی ہے کہ اس ملک کے لیے اب سب کو متحد ہونا ہوگا ورنہ اسی طرح بچے شہید ہونگے مائیں روتی رہیں گی اور حکمران تہزیت کرتے رہیں گئے اور ملک بھی یوں ہی چلے گا۔ ہمیں سب کی قدر کرنی ہوگی چاہے کوئی پختون ہو، پنجابی ، سندھی ، بلوچی یا بلتستانی ۔ ہم اس قابل نہیں کہ اب اور بٹیں اس لیے فوج اور سیاست دانوں کو چاہیے اپنا اپنا کام کریں ۔ جب فوج اپنا کام کرے گی ، عدالت مظلوموں کو انصاف دے گی اور میڈیا پاکستان کا اچھا امیج دکھائے گا تب جا کر ملک ترقی کرے گا۔
سب کو متحد ہونا ہے اور اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔
16 December 2014
16 December 1971

اپنا تبصرہ بھیجیں