انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں پر انڈونیشا میں بھی احتجاج

سنیچر کو جنوبی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے تصادم کے دوران مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے جو سات نوجوان ہلاک ہوئے اُن میں سے عابد حسین لون نامی نوجوان نے انڈونیشیا میں شادی کی تھی اور ان کے بچے کی عمر تین ماہ ہے۔

عابد حسین کی بیوہ صائمہ کے والدین اور دوسرے رشتہ داروں نے اتوار کو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انھوں نے بینر اُٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ‘کشمیر میں ہلاکتوں کو روکا جائے۔’

عابد کے رشتہ داروں نے بتایا کہ عابد کی ساس نے اپنی بیٹی صائمہ کے ساتھ فون پر بات کی اور غم زدہ خاندان کے ساتھ یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ سنیچر کی صبح فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے مشترکہ آپریشن میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈر ظہور ٹھوکر سمیت تین عسکریت پسند مارے گئے۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سرنو منگ ہامہ علاقے میں ہونے والے اس تصادم کے دوران مقامی لوگوں نے جائے تصادم کے قریب جاکر مظاہرے کیے جس کے بعد فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر دی جس میں عابد حسین سمیت سات نوجوان ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

ان ہلاکتوں سے کشمیر میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ حکام نے پلوامہ اور اس سے ملحقہ اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ اندرونی ریل سروس اور انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا ہے۔

علیحدگی پسندوں کے مشترکہ مزاحمتی فورم کی کال پر کل سے ہی تین روزہ ہڑتال کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں