نوجوان لڑکی کا آرمی والوں سے مباحثہ

عاصم اقبال خٹک

‎ہمارے آرمی کے نوجوان تو ملک کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ تیار ہوتے ہیں اور ملک کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ ان کو ڈیوٹی دی جاتی ہے اسی پر وہ عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن بات آتی ہے عام عوام کی ان کے حقوق کا کون خیال رکھے ہمارے ملک کا کوئی بھی وی آئی پی کہیں بھی آئے وہاں روٹ لگا دیا جاتا ہے اور عام عوام ذلیل اور خوار ہو جاتی ہے تو کچھ باشعور لوگ ان سے بحث کرتے ہیں کہ روٹ کیوں لگایا تو عوام اور آرمی نوجوانوں میں بحث ہو جاتی ہے تو اسی سے نفرت کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے عوام اور آرمی نوجوانو کے درمیان
‎ تو آج بھی ایک نوجوان لڑکی کےساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔
‎جس سے اس لڑکی کے اندر نفرت کا عنصر پیدا ہوا آج ایک میں پیدا ہوا اور کچھ میں پہلے سے پیدا تھا تو روز یہ بڑھتا جائے گا جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ آج ہی کا واقعہ ہے ایک نوجوان لڑکی یونیورسٹی سے گھر کی طرف جا رہی تھی راستے میں آرمی والوں نے روٹ لگا دیا شام کا وقت ہو رہا تھا تو لڑکی جلدی گھر پہنچنے کے لیے گاڑی سے اتر گئی کہ آگے چل کر دوسری گاڑی میں بیٹھ جاوں گی جب لڑکی روڈ کے دوسرے جانب گامزن ہوئی تو ایک سپاہی نے روک کر کہا کہ آپ نہیں جاسکتی کیونکہ روٹ لگا ہے لڑکی کے اسرار پر بھی
اجازت نہیں دی
‎آپ سب اس سے واقف ہیں کہ پاکستان میں نوجوان لڑکی رات کی وقت اکیلی ہو وہ کتنی محفوظ ہوگی وہ آپ لوگ بہتر جانتے ہونگے
نوجوان لڑکی تھی اور باشعور بھی تھی اُس نے بھی خوب سنائی کہ ہم بھی اس روڈ کا ٹیکس دیتے ہے اور یہ ملک ہمارے ٹیکسوں پے چل تھا ہے
مجھے کوئی بھی فرق نہیں پڑھ تھا کہ کوئی وزیر آرہاہے یہ افسر مجھے صرف یہ روڈ پار کرنا ہے اور گھر جانا ہے اُسی دوران ایک کیپٹن آیا لڑکی نہ اُس کیپٹن سے کہا کہ کیا میں دہشت گرد ہوں ؟کیا میں مشکوک ہوں ؟ کہ مجھے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہو

اور ملک کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ ان کو ڈیوٹی دی جاتی ہے اسی پر وہ عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن بات آتی ہے عام عوام کی ان کے حقوق کا کون خیال رکھے ہمارے ملک کا کوئی بھی وی آئی پی کہیں بھی آئے وہاں روٹ لگا دیا جاتا ہے اور عام عوام ذلیل اور خوار ہو جاتی ہے تو کچھ باشعور لوگ ان سے بحث کرتے ہیں کہ روٹ کیوں لگایا تو عوام اور آرمی نوجوانوں میں بحث ہو جاتی ہے تو اسی سے نفرت کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے عوام اور آرمی نوجوانو کے درمیان
‎ تو آج بھی ایک نوجوان لڑکی کےساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔
‎جس سے اس لڑکی کے اندر نفرت کا عنصر پیدا ہوا آج ایک میں پیدا ہوا اور کچھ میں پہلے سے پیدا تھا تو روز یہ بڑھتا جائے گا جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ آج ہی کا واقعہ ہے ایک نوجوان لڑکی یونیورسٹی سے گھر کی طرف جا رہی تھی راستے میں آرمی والوں نے روٹ لگا دیا شام کا وقت ہو رہا تھا تو لڑکی جلدی گھر پہنچنے کے لیے گاڑی سے اتر گئی کہ آگے چل کر دوسری گاڑی میں بیٹھ جاوں گی جب لڑکی روڈ کے دوسرے جانب گامزن ہوئی تو ایک سپاہی نے روک کر کہا کہ آپ نہیں جاسکتی کیونکہ روٹ لگا ہے لڑکی کے اسرار پر بھی
اجازت نہیں دی
‎آپ سب اس سے واقف ہیں کہ پاکستان میں نوجوان لڑکی رات کی وقت اکیلی ہو وہ کتنی محفوظ ہوگی وہ آپ لوگ بہتر جانتے ہونگے
نوجوان لڑکی تھی اور باشعور بھی تھی اُس نے بھی خوب سنائی کہ ہم بھی اس روڈ کا ٹیکس دیتے ہے اور یہ ملک ہمارے ٹیکسوں پے چل تھا ہے
مجھے کوئی بھی فرق نہیں پڑھ تھا کہ کوئی وزیر آرہاہے یہ افسر مجھے صرف یہ روڈ پار کرنا ہے اور گھر جانا ہے اُسی دوران ایک کیپٹن آیا لڑکی نہ اُس کیپٹن سے کہا کہ کیا میں دہشت گرد ہوں ؟کیا میں مشکوک ہوں ؟ کہ مجھے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہو

اس نے بھی روڈ پار کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن لڑکی بھی بضد تھی کہ یہ روڈ تو میں نے پار کرنے ہی ہے اخر لڑکی نے تو روڈ پار کردیا لیکن سوال یہ ہے کہ وہاں موجود جتنے بھی مرد تھے اُن میں کوئی بھی باشعور نہیں تھا کہ اپنے حقوق کے لیے بول پڑہ تھا آخر کب تک ہم خود پر ظلم برداشت کر ینگے اور آخر کب تک ان ناہل حکمرانوں کو مزے کرنے دینگے کب تک ہمارے بچے بزرگ اور خواتین زلیل اور رسوا ہوگی
اور کب تک ہم برداشت کرتے رہنگے

‎ ہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائے۔۔۔

‎کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائے۔۔۔

‎تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغام ۔۔۔

‎حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں